مانو کے ریگولر کورسز میں اسپاٹ ایڈمیشنس (برسر موقع داخلے)
PressRelease
مانو کے ریگولر کورسز میں اسپاٹ ایڈمیشنس (برسر موقع داخلے)
درخواستیں داخل کرنے کی 4 ستمبر آخری تاریخ
حیدرآباد، یکم ستمبر (پریس نوٹ) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے ریگولر کورسز میں داخلوں کا آخری مرحلہ کا اعلان کیا گیا ہے۔ جس کے دوران سرٹیفکیٹ ، ڈپلوما ، یو جی ، پی جی کورسز کی محدود نشستوں پر داخلوں کا موقع فراہم کیا جارہا ہے۔ داخلوں کے اس مرحلے میں سبھی درخواستیں داخل کرسکتے ہیں۔ ڈائرکٹر ایڈمیشن پروفیسر سید امتیاز حسن کے مطابق داخلوں کے اس قطعی مرحلے میں طلبہ 4 ستمبر تک درخواستیں داخل کرسکتے ہیں۔
یو جی کورسز بشمولCUET اور بغیر CUET کے کورسز کے لیے پورٹل manuucoe.in/CUETAdmission پر اور پی جی، ڈپلوما، سرٹیفکیٹ (میرٹ کی بنیاد کے کورسز( کے لیے manuucoe.in/regularAdmission پر فارم داخل کرسکتے ہیں۔ مزید تفصیلات ویب سائٹ manuu.edu.in پر دیکھی جاسکتی ہیں۔ آن لائن سرٹیفکیٹس کی جانچ 7 ستمبر کو ہوگی۔ منتخب امیدواروں کی فہرست 8 ستمبر کو جاری ہوگی۔ 9 اور 10 ستمبر کو فیس داخل کی جاسکتی ہے۔
------------------------------
مسلسل مقامی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری سے ہی مضبوط مزاحمت پیدا ہوتی ہے
ماہر ماحولیات ساگر دھرا کا خطاب۔ مانو میں انسانی ہنگامی ردِعمل پروگرام کا افتتاح
Photos belongs to this News
حیدرآباد، یکم ستمبر (پریس نوٹ) ”مضبوط مزاحمت کے فروغ کے لیے مقامی صلاحیتوں میں مسلسل سرمایہ کاری ضروری ہے۔ اس سرمایہ کاری میں کمیونٹی کی سطح پر ہنگامی حالات سے نمٹنے کی منصوبہ بندی، قبل از وقت انتباہ سے متعلق آگاہی اور مقامی افراد و اداروں کو اس قابل بنانا شامل ہے تا کہ وہ کسی بھی آفت سے پہلے، دورانِ آفت اور اس کے بعد امدادی کارروائیوں کی قیادت کر سکیں۔“ ان خیالات کا اظہار سینئر ماہرِ ماحولیات اور رسک اینالیسس ایکسپرٹ مسٹر ساگر دھرا نے آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو) میں کیا۔ وہ آج مولانا آزاد نیشنل اردو یو نیورسٹی کے ڈپارٹمنٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن کے زیر اہتمام سہ روزہ پروگرام کی افتتاحی تقریب میں بحیثیت مہمانِ خصوصی مخاطب تھے۔ یہ پروگرام ایکشن ایڈ نامی غیر سرکاری تنظیم کے تعاون سے منعقد کیا جارہا ہے۔
”آفات کے خطرات میں کمی کے لیے انسانی قیادت: تیاری اور مقامی اقدامات کے ذریعے کمیونٹی کی مضبوط مزاحمت کو فروغ دینا“ کے موضوع پر منعقدہ اس پروگرام افتتاحی اجلاس میں مسٹر ساگر دھرا، ماہرِ ماحولیات نے کلیدی خطبہ دیا۔ جبکہ افتتاحی اجلاس کی صدارت مانو کے وائس چانسلر پروفیسر سید عین الحسن نے کی۔
ماحولیاتی خطرات کے تجزیے کے شعبے میں اپنے وسیع تجربے کی بنیاد پر مسٹر دھرا نے مؤثر کے خطرات میں کمی کے لیے ادارہ جاتی اور نچلی سطح پرقیادت کے اہم کرداروں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں شدید سیلاب سے متاثرہ نیپال کی صورتحال اور ستمبر 2026 میں پیش آنے والے جانی نقصانات کا بھی ذکر کیا۔
اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر سید عین الحسن نے اس طرح کے پروگرام کے انعقاد کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ آفات سے نمٹنے کے لیے خطرات کے انتظام اور تیاری کو خاص اہمیت دی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق وہ افراد جو ہنگامی حالات میں سب سے پہلے امدادی کارروائیوں میں شامل ہوتے ہیں، ان کے لیے اس طرح کے پروگرام بڑے کار آمد ہیں۔
ایکشن ایڈ کی ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر ایسٹر ماریاسیلوم نے اس تین روزہ پروگرام کے انعقاد کے اغراض و مقاصد کو واضح کیا۔ جبکہ ایکشن ایڈ کے ڈاکٹر ایم محمد عرفان نے ”حیدرآباد میں آفات کے خطرات کا منظرنامہ“ کے موضوع پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
افتتاحی پروگرام میں پروفیسر پی ایچ محمد، ڈین، اسکول آف آرٹس اینڈ سوشل سائنسز، مانو بھی موجود تھے۔ شعبۂ پبلک ایڈمنسٹریشن کے سربراہ پروفیسر سید نجی اللہ نے افتتاحی اجلاس میں استقبالیہ خطاب پیش کیا۔ پروگرام کی نظامت ڈاکٹر احمد رضا، شعبۂ پبلک ایڈمنسٹریشن نے کی جبکہ ایکشن ایڈ کی محترمہ وندنا نے اظہارِ تشکر پیش کیا۔