خوشحال ہندوستان کی تعمیر کے لیے اختراعی سوچ اور اقدامات ضروری

Hyderabad,


خوشحال ہندوستان کی تعمیر کے لیے اختراعی سوچ اور اقدامات ضروری
شعبۂ مینجمنٹ و کامرس ، اردو یونیورسٹی میں قومی سمینار سے ڈاکٹرسوریہ کانت اور پروفیسر سید عین الحسن کے خطاب
حیدرآباد، 16 فروری(پریس نوٹ) پائیدار ترقی کے حصول کے لیے انتظامی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ اختراعی صلاحیتوں کو فروغ دینا ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر سید عین الحسن، وائس چانسلر نے کیا۔ وہ آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، شعبۂ مینجمنٹ و کامرس کے زیر اہتمام دو روزہ قومی کانفرنس کا افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ کانفرنس کا عنوان "کاروباری ماحولیاتی نظام میں پیراڈائم شفٹ: ہندوستان کی ترقی کے تناظر میں اختراعات، مصنوعی ذہانت، محصول اور پائیدار ترقی کے اہداف" تھا۔ اس کانفرنس کا انعقاد شعبۂ مینجمنٹ و کامرس نے مرکز برائے فاصلاتی و آن لائن تعلیم (CDOE) کے اشتراک سے کیا ہے۔
اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر سید عین الحسن نے مزید کہا کہ ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اساتذہ اور شرکاءکو مشورہ دیا کہ وہ تنظیمی رویے (Organisational Behaviour) کی کتب سے استفادہ کریں اور خود کو مسلسل سیکھنے کے عمل میں مصروف رکھیں۔ انہوں نے اپنے ایک پروجیکٹ کی تکمیل کے دوران تنظیمی رویے کے لٹریچر سے استفادہ کی مثال بھی پیش کی۔
پروگرام کے آغاز میں شعبہ کے صدر پروفیسر ایم اے عظیم نے خیرمقدمی کلمات کہے۔ اسکول آف کامرس اینڈ بزنس مینجمنٹ کے ڈین اور ڈائرکٹر، سی ڈی او ای پروفیسر رضاءاللہ خان نے افتتاحی خطاب پیش کرتے ہوئے کانفرنس کے موضوع کی عصری اہمیت پر روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر سوریہ کانت شرما نے اس کانفرنس میں بحیثیت مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی کے بدلتے ہوئے منظرنامے اور اس کے عوامی زندگی پر اثرات سے کسی طرح بھی فرار ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی قوم اختراع کے میدان میں باصلاحیت ہے اور ایک خوشحال ہندوستان کی تعمیر کے لیے اس طرح کی اختراعی سوچ اور اقدامات کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔
قبل ازیں کانفرنس کے آغاز میں کنوینر ڈاکٹر شیخ قمرالدین، اسسٹنٹ پروفیسر نے استقبالیہ کلمات پیش کیے۔
کانفرنس کے افتتاحی الاس کا کلیدی خطبہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ وشاکھاپٹنم کے پروفیسر وجیا بھاسکر مریسیٹی نے پیش کیا۔ انہوں نے یہ بات واضح کی کہ کس طرح ٹیکنالوجی کو کاروبار اور معیشت کے بہتر نظم و نسق کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کارپوریٹ دنیا میں وسائل کے موثر استعمال کو بیان کیا اور کہا کہ اختراع اور ڈیجیٹل ترقی ہندوستان کے لیے ایک بہترین موقع ہے۔
انہوں نے موجودہ ٹیکنالوجی کے دور میں انسانی اقدار کی اہمیت کو اجاگر کیا اور کہا کہ پورے ملک میں اپنی نوعیت کی یہ ایک منفرد کانفرنس ہے۔
کانفرنس کے افتتاحی اجلاس کی نظامت ڈاکٹر رشید فاروقی نے انجام دی۔ اس پروگرام میں یونیورسٹی کے اساتذہ، مندوبین، ریسرچ اسکالرز اور عملے کے اراکین نے شرکت کی۔