فنون مختلف مذاہب میں خدا کی خوشنودی کے حصول کا ذریعہ رہے
Hyderabad,
فنون مختلف مذاہب میں خدا کی خوشنودی کے حصول کا ذریعہ رہے
اردو یونیورسٹی میں جشن قوالی کا آغاز۔ پروفیسر انورادھا ، پروفیسر سید عین الحسن کا خطاب
حیدرآباد، یکم اپریل (پریس نوٹ) مختلف مذاہب میں فنون کے مختلف اقسام کے ذریعہ خدا کی خوشنودی کے حصول کی روایت رہی ۔ وقت کے ساتھ ساتھ تمام فنون عوام سے جڑتے گئے اور عوامی ذوق اور سیاسی و جغرافیائی اثرات کے باعث ان میں تبدیلیاں آئیں۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر جے انورادھا، وائس چانسلر ، یونیورسٹی آف حیدرآباد نے کیا۔ وہ آج اسوسی ایشن آف انڈین یونیورسٹیز کے زیر اہتمام 8ویں بین جامعاتی قومی قوالی مقابلہ ”جشنِ قوالی“ میں بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کر رہی تھیں۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں جشن قوالی کا یکم اور 2 اپریل کو آغا حشر کاشمیری آڈیٹوریم ، مرکز فاصلاتی و آن لائن تعلیم میں انعقاد عمل میں آرہا ہے۔
پروفیسر انورادھا نے مزید کہا کہ ”میں یہاں بحیثیت منتظم سے زیادہ بحیثیت فنکار شرکت کر رہی ہوں۔ یہ ہمارے لیے ایک بہترین موقع ہے کہ جس کے تحت ہم ایسے لوگوں سے مل رہے ہیں جو ہمارے ہی میدان میں کام کر رہے ہیں۔ جہاں تک فنون کی بات ہے یونیورسٹیوں میں پہلے انہیں عمومی طور پر آخری ترجیح کے طور پر دیکھا جاتا ہے لیکن گذشتہ دو دہوں سے فنونِ لطیفہ کو یونیورسٹی سسٹم میں اہمیت حاصل ہو رہی ہے۔ اسکول قائم ہو رہے ہیں۔ جنوبی ہندوستان میں یونیورسٹی آف حیدرآباد پہلی یونیورسٹی ہے جہاں اسکول آف آرٹس اینڈ کمیونکیشن گذشتہ 35 سال سے قائم ہے۔“ انہوں نے کہاکہ دیگر فنون لطیفہ کی طرح قوالی بھی حیدرآباد میں پھلی پھولی۔ حیدرآباد میں فنون کی سرپرستی ہوئی۔ خصوصی طور پر قوالی ، موسیقی، رقص کو بہمنی اور آصف جاہی ادوار میں سرپرستی اور فروغ ملا۔ وارثی برادران اور پنڈت وینکٹ راﺅ نے قوالی میں نئے جہات کا اضافہ کیا۔ خصوصی طور پر سنیما کے ذریعہ قوالی کو مزید فروغ ملا۔ سنیما کے باعث اس فن کی لوگوں تک رسائی میں بہت زیادہ اضافہ ہوا۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس فن کا تحفظ کریں گے۔ مختلف یونیورسٹیوں کے لیے جشن قوالی کا آغاز 2016ءمیں ہوا تھا۔ مانو جنوبی ہند کی دوسری یونیورسٹی ہے جو اس جشن کی میزبانی کر رہی ہے۔
پروفیسر سید عین الحسن، وائس چانسلر نے اس پروگرام کی صدارت کی۔ انہوں نے صدارتی خطاب میں کہا کہ یہ ایک اچھا موقع ہے کہ ایک دوسرے سے معلومات کا تبادلہ کیا جائے۔ اردو یونیورسٹی میں مختلف کلبس ہے جنہوں نے محض 3 سال میں کافی ترقی کی ہے۔ ہمارا کام لوگوں سے محبت کرنا ہے، ان کا احترام کرنا ہے، آج اردو یونیورسٹی کی میزبانی کو سراہا جارہا ہے کیوں کہ یہاں خصوصی طور پر بڑوں کا احترام کیا جاتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں ایسا ماحول تیار ہو جس میں محبت اور احترام ہو۔ ہمیں بہت خوشی ہو رہی ہے کہ یہاں پر مختلف یونیورسٹی اور تعلیمی اداروں سے ٹیمیں شرکت کر رہی ہیں۔ ان مختلف ریاستوں کے تعلیمی اداروں کا اشتراک ایسا ہے جیسا بحروں کا آپس میں ملنا۔ ہماری زندگی کے دو اہم پہلو ہیں۔ عقیدتمندی اور پیشکش ۔ جب ان دونوں کا امتزاج ہوتا ہے تو پھر کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے قوالی کے اجزائے ترکیبی کو مثالوں کے ساتھ پیش کیا۔
قبل ازیں پروفیسر صدیقی محمد محمود، ڈین بہبودیِ طلبہ نے خیر مقدم کیا۔ پروفیسر علیم اشرف جائسی، پروفیسر ایمریٹس، مانو نے بھی خطاب کیا۔ ڈاکٹر معراج احمد، کلچرل کوآرڈینیٹر، مانو نے پروگرام کے متعلق تفصیلات فراہم کیں۔ پروفیسر محمد عبدالسمیع صدیقی ، جوائنٹ ڈین بہبودیِ طلبہ نے شکریہ ادا کیا۔ ڈاکٹر شیخ وسیم، صدر میوزک کلب نے کارروائی چلائی۔ ابتداءمیں تمام یونیورسٹیوں کے منیجرس نے اپنی اپنی ٹیموں کا تعارف پیش کیا۔