کمیونٹی ریڈیو کا افتتاح۔ ڈائرکٹر جنرل آل انڈیا ریڈیوراجیو کمار جین و دیگر کی مخاطبت

Hyderabad,


ریڈیو مانو اردو یونیورسٹی کو عوام سے جوڑنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے
کمیونٹی ریڈیو کا افتتاح۔ ڈائرکٹر جنرل آل انڈیا ریڈیوراجیو کمار جین و دیگر کی مخاطبت

 

حیدرآباد، 24 مارچ (پریس نوٹ) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کی جانب سے شروع کردہ ریڈیو مانو اردو یونیورسٹی کو مقامی عوام سے جوڑنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ ملک بھر میں تقریباً 560 کمیونٹی ریڈیو اسٹیشن کام کرتے ہیں جن میں سے 38 فیصد کمیونٹی ریڈیو تعلیمی اداروں کی جانب سے ہی چلائے جاتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مسٹر راجیو کمار جین، ڈائرکٹر جنرل آل انڈیا ریڈیو نے کیا۔ وہ آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے باوقار پراجیکٹ ریڈیو مانو 90.0 ایف ایم کا افتتاح انجام دینے کے بعد خطاب کر رہے تھے۔
اردو یونیورسٹی کی جانب سے شروع کردہ یہ کمیونٹی ریڈیو انسٹرکشنل میڈیا سنٹر (آئی ایم سی) کی نگرانی میں چلایا جائے گا۔ ریڈیو کی افتتاحی تقریب کی صدارت پروفیسر سید عین الحسن نے کی۔ گچی باﺅلی اور اس کے اطراف و اکناف کے 15 کیلومیٹر کے علاقہ میں ریڈیو مانو کی نشریات ایف ایم پر سنی جاسکیں گی جبکہ یوٹیوب اور فیس بک کے ذریعہ سے اسے دنیا بھر میں ملاحظہ کیا جاسکے گا۔ آل انڈیا ریڈیو کے ڈائرکٹر جنرل راجیو کمار جین نے کہا کہ کسی بھی کمیونٹی ریڈیو کے لیے ابتدائی 6 ماہ بڑی اہمیت رکھتے ہیں اسی عرصے کے دوران ریڈیو اپنی مخصوص دھن اور اپنے مواد سے زیادہ سے زیادہ سامعین کو راغب کرسکتا ہے۔ ان کے مطابق آج کے دور میں بھی کمیونٹی ریڈیو عوام کو بااختیار بنانے کا ایک اہم وسیلہ ہے۔ کیونکہ یہ عوام کی جانب سے اور عوام کے لیے ہی چلایا جاتا ہے۔ انہوں نے آل انڈیا ریڈیو کے حالات حاضرہ کے پروگرام کو ریڈیو مانو پر بھی پیش کرنے کی پیشکش کی اور کہا کہ اگر اردو یونیورسٹی بھی ریڈیو کے معیاری اور تعمیری پرو گرام بناتی ہے تو اس کو آل انڈیا ریڈیو کی جانب سے آن ایئر پیش کرنے کی گنجائش ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ کمیونٹی ریڈیو کی رسائی محدود ہے لیکن سوشیل میڈیا کے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے اس کو وسعت دی جاسکتی ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر سید عین الحسن نے کہا کہ اردو یونیورسٹی میں کمیونٹی ریڈیو کا آغاز ایک ایسی مثبت پہل ہے جس سے اردو یونیورسٹی عوام سے اور بھی زیادہ قریب ہوسکتی ہے اور ملک کی مثبت ترقی میں اپنا کردار نبھاسکتی ہے۔
پروفیسر اشتیاق احمد، رجسٹرار، نے اپنے خطاب میں کہا کہ ریڈیو مانو ایک انقلابی اقدام اور ایک اہم سنگِ میل ہے، جو یونیورسٹی کی سرگرمیوں کو کیمپس سے باہر وسعت دینے کے ایک نئے باب کی شروعات کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریڈیو مانو یونیورسٹی کے لیے ایک طاقتور اثاثہ اور اس کے عوامی رابطہ پروگرام میں ایک قیمتی اضافہ ہے۔ یہ یونیورسٹی کو کمیونٹیز سے جوڑنے، علم کو عام کرنے، اور یونیورسٹی کو عوام کے قریب لانے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ پلیٹ فارم تخلیقی صلاحیتوں، تعلیمی سرگرمیوں، اکتساب اور بامعنی مکالمے کے لیے متحرک ثابت ہوگا، اور ساتھ ہی مانو کی شناخت اور رسائی کو بھی مضبوط کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ اس طرح کے منصوبوں سے مکالمے کو اہمیت حاصل ہوگی۔
قبل ازیں پروگرام کے آغاز میں ڈائرکٹر انسٹرکشنل میڈیا سنٹر رضوان احمد نے ریڈیو مانو کے آغاز اور اغراض و مقاصد پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ڈاکٹر محمد امتیاز عالم ، ریسرچ آفیسر نے کارروائی چلائی۔ عمر اعظمی نے مہمان کا تعارف پیش کیا اور شکریہ ادا کیا۔ ڈاکٹر محمد عبدالمنیرکی قرات کلام پاک سے جلسے کا آغاز ہوا۔

کمیونٹی ریڈیو کا افتتاح۔ ڈائرکٹر جنرل آل انڈیا ریڈیوراجیو کمار جین و دیگر کی مخاطبت

Hyderabad,


ریڈیو مانو اردو یونیورسٹی کو عوام سے جوڑنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے
کمیونٹی ریڈیو کا افتتاح۔ ڈائرکٹر جنرل آل انڈیا ریڈیوراجیو کمار جین و دیگر کی مخاطبت

 

حیدرآباد، 24 مارچ (پریس نوٹ) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کی جانب سے شروع کردہ ریڈیو مانو اردو یونیورسٹی کو مقامی عوام سے جوڑنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ ملک بھر میں تقریباً 560 کمیونٹی ریڈیو اسٹیشن کام کرتے ہیں جن میں سے 38 فیصد کمیونٹی ریڈیو تعلیمی اداروں کی جانب سے ہی چلائے جاتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مسٹر راجیو کمار جین، ڈائرکٹر جنرل آل انڈیا ریڈیو نے کیا۔ وہ آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے باوقار پراجیکٹ ریڈیو مانو 90.0 ایف ایم کا افتتاح انجام دینے کے بعد خطاب کر رہے تھے۔
اردو یونیورسٹی کی جانب سے شروع کردہ یہ کمیونٹی ریڈیو انسٹرکشنل میڈیا سنٹر (آئی ایم سی) کی نگرانی میں چلایا جائے گا۔ ریڈیو کی افتتاحی تقریب کی صدارت پروفیسر سید عین الحسن نے کی۔ گچی باﺅلی اور اس کے اطراف و اکناف کے 15 کیلومیٹر کے علاقہ میں ریڈیو مانو کی نشریات ایف ایم پر سنی جاسکیں گی جبکہ یوٹیوب اور فیس بک کے ذریعہ سے اسے دنیا بھر میں ملاحظہ کیا جاسکے گا۔ آل انڈیا ریڈیو کے ڈائرکٹر جنرل راجیو کمار جین نے کہا کہ کسی بھی کمیونٹی ریڈیو کے لیے ابتدائی 6 ماہ بڑی اہمیت رکھتے ہیں اسی عرصے کے دوران ریڈیو اپنی مخصوص دھن اور اپنے مواد سے زیادہ سے زیادہ سامعین کو راغب کرسکتا ہے۔ ان کے مطابق آج کے دور میں بھی کمیونٹی ریڈیو عوام کو بااختیار بنانے کا ایک اہم وسیلہ ہے۔ کیونکہ یہ عوام کی جانب سے اور عوام کے لیے ہی چلایا جاتا ہے۔ انہوں نے آل انڈیا ریڈیو کے حالات حاضرہ کے پروگرام کو ریڈیو مانو پر بھی پیش کرنے کی پیشکش کی اور کہا کہ اگر اردو یونیورسٹی بھی ریڈیو کے معیاری اور تعمیری پرو گرام بناتی ہے تو اس کو آل انڈیا ریڈیو کی جانب سے آن ایئر پیش کرنے کی گنجائش ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ کمیونٹی ریڈیو کی رسائی محدود ہے لیکن سوشیل میڈیا کے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے اس کو وسعت دی جاسکتی ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر سید عین الحسن نے کہا کہ اردو یونیورسٹی میں کمیونٹی ریڈیو کا آغاز ایک ایسی مثبت پہل ہے جس سے اردو یونیورسٹی عوام سے اور بھی زیادہ قریب ہوسکتی ہے اور ملک کی مثبت ترقی میں اپنا کردار نبھاسکتی ہے۔
پروفیسر اشتیاق احمد، رجسٹرار، نے اپنے خطاب میں کہا کہ ریڈیو مانو ایک انقلابی اقدام اور ایک اہم سنگِ میل ہے، جو یونیورسٹی کی سرگرمیوں کو کیمپس سے باہر وسعت دینے کے ایک نئے باب کی شروعات کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریڈیو مانو یونیورسٹی کے لیے ایک طاقتور اثاثہ اور اس کے عوامی رابطہ پروگرام میں ایک قیمتی اضافہ ہے۔ یہ یونیورسٹی کو کمیونٹیز سے جوڑنے، علم کو عام کرنے، اور یونیورسٹی کو عوام کے قریب لانے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ پلیٹ فارم تخلیقی صلاحیتوں، تعلیمی سرگرمیوں، اکتساب اور بامعنی مکالمے کے لیے متحرک ثابت ہوگا، اور ساتھ ہی مانو کی شناخت اور رسائی کو بھی مضبوط کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ اس طرح کے منصوبوں سے مکالمے کو اہمیت حاصل ہوگی۔
قبل ازیں پروگرام کے آغاز میں ڈائرکٹر انسٹرکشنل میڈیا سنٹر رضوان احمد نے ریڈیو مانو کے آغاز اور اغراض و مقاصد پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ڈاکٹر محمد امتیاز عالم ، ریسرچ آفیسر نے کارروائی چلائی۔ عمر اعظمی نے مہمان کا تعارف پیش کیا اور شکریہ ادا کیا۔ ڈاکٹر محمد عبدالمنیرکی قرات کلام پاک سے جلسے کا آغاز ہوا۔