Hyderabad,

a

کووڈ 19 طویل عرصہ تک رہے گا : پروفیسر احتشام حسنین
اُردو یونیورسٹی میں ممتاز سائنسداں کا قومی یومِ سائنس لیکچر
حیدرآباد، 2 مارچ (پریس نوٹ) ” کووڈ 19 لمبے عرصے تک ہمارے ساتھ رہے گا اور اس سے بچنے کے لیے ہمیں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے“۔ ان خیالات کا اظہار معروف سائنسداںپدم شری سید احتشام حسنین، اعزازی پروفیسر، آئی آئی ٹی، دہلی نے 28 فروری 2021 کو قومی یومِ سائنس کے سلسلے میں مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی، اسکول آف سائنس (ایس ایس) کے زیر اہتمام منعقدہ آن لائن لیکچرسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے بحیثیت مہمانِ خصوصی ”حیاتیاتی علوم کا رواں صدی اور مستقبل میں انسانی تحقیق کی تمام شاخوں پر غلبہ “ کے زیر عنوان لیکچرپیش کیا۔
پروفیسر احتشام حسنین نے سائنس کی مختلف نئی ایجادات اور دریافتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ 21 ویں صدی میں اور اُس سے آگے بھی بالخصوص حیاتیاتی علوم دیگر سائنسی علوم پر حاوی رہیں گے۔انہوں نے بتایا کہ کس طرح ڈی این اے کی ترتیب ، اپی جنیٹکس(epigenectics)، اسٹم سیلز ، آنے والی نسلوں کی ترتیب (next generation sequencing)، جین ایڈیٹنگ ، کلوننگ اور تھری ڈی آرگن پرنٹنگ سے متعلق تحقیقات زندگی کے تمام شعبوں میں انقلاب پیدا کریں گے۔وزیر اعظم نریندر مودی کے مشن کا حوالہ دیتے ہوئے ،پروفیسر حسنین نے کہا کہ ہمارا ملک 2025 تک کامیابی کے ساتھ تپ دق کا خاتمہ کرے گا۔ پروفیسر حسنین نے سائنس ڈے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا جو 1928 میں رمن اثر کی دریافت کی یادگار ہے اور جس کے لئے سر سی وی رمن کو 1930 میں نوبل انعام دیا گیا تھا۔ پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ ، وائس چانسلر انچارج نے اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر حسنین کا ان کے فکر انگیز اور پُر مغز لیکچر پرشکریہ ادا کیا۔ مہمان ِاعزازی، پروفیسر صدیقی محمد محمود ، رجسٹرار انچارج نے عقلِ سلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے نظام ِقدر کے ساتھ اس کے گہرے تعلق کا ذکر کیا۔
پروفیسر رحمت اللہ اور پروفیسر صدیقی نے اسکول آف سائنسز کے زیر اہتمام NSD-2021 کے موضوع” سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کا مستقبل: تعلیم ، ہنر ، اور کام پر اثرات “ پرمنعقدہ ویڈو کلپنگ مقابلے کے انعام یافتگان کاا علان کرتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کی اور اس طرح کے مزید پروگراموں میں شرکت کرنے کی ترغیب دی۔
پروفیسر پروین جہاں، ڈین اسکول و کنوینر پروگرام نے مہمانوں کا استقبال کیا اور مہمانِ خصوصی کا تعارف پیش کیا۔ڈاکٹر ارا خان، اسسٹنٹ پروفیسر(باٹنی) نے کارروائی چلائی اور شکریہ ادا کیا۔ انسٹرکشنل میڈیا سنٹر کی ٹیم نے ڈائرکٹر جناب رضوان احمد کی نگرانی میں آئی ایم سی یوٹیوب چینل پر لیکچر کے آن لائن ٹیلی کاسٹ کیا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بہتر تحقیق کے لیے تنقیدی مشاہدہ اور وسیع مطالعہ نا گزیر
 اردو یونیورسٹی میں آن لائن ورکشاپ کا افتتاح ۔ پروفیسر رحمت اللہ کا خطاب
حیدرآباد، 2مارچ (پریس نوٹ) ڈین ریسرچ اینڈ کنسلٹنسی اور مر کز پیشہ ورانہ فروغ برائے اساتذہ ¿ اردو ذریعہ ¿ تعلیم (سی پی ڈی یو ایم ٹی)،مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے ا شتراک سے ریسرچ اسکالرس کے لیے 5 روزہ آن لائن ورکشاپ کا کل افتتاح عمل میں آیا۔ صدارتی خطاب پیش کرتے ہوئے کارگزار شیخ الجامعہ، پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ نے کہا کہ بہتر تحقیق کے لیے تنقیدی مشاہدہ اور وسیع مطالعہ نا گزیر ہے۔ انہوں نے ریسرچ اسکالرس کو مشورہ دیا کہ تحقیق برائے تحقیق کے بجائے تحقیق برائے تعمیر پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 بھی تحقیق کی اہمیت وافادیت پر زور دیتی ہے ۔ اس موقع پر پروفیسر صدیقی محمد محمود ، انچارج رجسٹرار نے کہا کہ طلبہ کو موضوع کے حوالے سے غور و فکر کرنے کے بعد واضح تصور قائم کرتے ہوئے غیر جانب دار ہو کر مدلل بات کرنی چاہیے۔ اچھی تحقیق کے لیے تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ مقالہ نویسی کی مہارتوں کو بھی اجاگر کرنا چاہیے۔ قبل ازیں پروفیسر سلمیٰ احمد فاروقی ، ڈین ریسرچ اینڈ کنسلٹنسی نے ورکشاپ کے اغراض و مقاصد بیان کر تے ہوئے کہاکہ آن لائن ورکشاپ کے لیے ملک بھر کے ماہرین کی خدمات حاصل کی جارہی ہےں۔ افتتاحی تقریب کی کارروائی پر وفیسرمحمد عبدالسمیع صدیقی، ڈائرکٹر، مرکز، پیشہ ورانہ فروغ برائے اساتذہ اردو ذریعہ تعلیم نے چلائی۔ آخر میں ڈاکٹر اے سبھاش ،اسسٹنٹ پروفیسر، مطالعاتِ دکن نے ہدیہ تشکر پیش کیا۔

 

Hyderabad,

2

کووڈ 19 طویل عرصہ تک رہے گا : پروفیسر احتشام حسنین
اُردو یونیورسٹی میں ممتاز سائنسداں کا قومی یومِ سائنس لیکچر
حیدرآباد، 2 مارچ (پریس نوٹ) ” کووڈ 19 لمبے عرصے تک ہمارے ساتھ رہے گا اور اس سے بچنے کے لیے ہمیں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے“۔ ان خیالات کا اظہار معروف سائنسداںپدم شری سید احتشام حسنین، اعزازی پروفیسر، آئی آئی ٹی، دہلی نے 28 فروری 2021 کو قومی یومِ سائنس کے سلسلے میں مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی، اسکول آف سائنس (ایس ایس) کے زیر اہتمام منعقدہ آن لائن لیکچرسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے بحیثیت مہمانِ خصوصی ”حیاتیاتی علوم کا رواں صدی اور مستقبل میں انسانی تحقیق کی تمام شاخوں پر غلبہ “ کے زیر عنوان لیکچرپیش کیا۔
پروفیسر احتشام حسنین نے سائنس کی مختلف نئی ایجادات اور دریافتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ 21 ویں صدی میں اور اُس سے آگے بھی بالخصوص حیاتیاتی علوم دیگر سائنسی علوم پر حاوی رہیں گے۔انہوں نے بتایا کہ کس طرح ڈی این اے کی ترتیب ، اپی جنیٹکس(epigenectics)، اسٹم سیلز ، آنے والی نسلوں کی ترتیب (next generation sequencing)، جین ایڈیٹنگ ، کلوننگ اور تھری ڈی آرگن پرنٹنگ سے متعلق تحقیقات زندگی کے تمام شعبوں میں انقلاب پیدا کریں گے۔وزیر اعظم نریندر مودی کے مشن کا حوالہ دیتے ہوئے ،پروفیسر حسنین نے کہا کہ ہمارا ملک 2025 تک کامیابی کے ساتھ تپ دق کا خاتمہ کرے گا۔ پروفیسر حسنین نے سائنس ڈے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا جو 1928 میں رمن اثر کی دریافت کی یادگار ہے اور جس کے لئے سر سی وی رمن کو 1930 میں نوبل انعام دیا گیا تھا۔ پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ ، وائس چانسلر انچارج نے اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر حسنین کا ان کے فکر انگیز اور پُر مغز لیکچر پرشکریہ ادا کیا۔ مہمان ِاعزازی، پروفیسر صدیقی محمد محمود ، رجسٹرار انچارج نے عقلِ سلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے نظام ِقدر کے ساتھ اس کے گہرے تعلق کا ذکر کیا۔
پروفیسر رحمت اللہ اور پروفیسر صدیقی نے اسکول آف سائنسز کے زیر اہتمام NSD-2021 کے موضوع” سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کا مستقبل: تعلیم ، ہنر ، اور کام پر اثرات “ پرمنعقدہ ویڈو کلپنگ مقابلے کے انعام یافتگان کاا علان کرتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کی اور اس طرح کے مزید پروگراموں میں شرکت کرنے کی ترغیب دی۔
پروفیسر پروین جہاں، ڈین اسکول و کنوینر پروگرام نے مہمانوں کا استقبال کیا اور مہمانِ خصوصی کا تعارف پیش کیا۔ڈاکٹر ارا خان، اسسٹنٹ پروفیسر(باٹنی) نے کارروائی چلائی اور شکریہ ادا کیا۔ انسٹرکشنل میڈیا سنٹر کی ٹیم نے ڈائرکٹر جناب رضوان احمد کی نگرانی میں آئی ایم سی یوٹیوب چینل پر لیکچر کے آن لائن ٹیلی کاسٹ کیا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بہتر تحقیق کے لیے تنقیدی مشاہدہ اور وسیع مطالعہ نا گزیر
 اردو یونیورسٹی میں آن لائن ورکشاپ کا افتتاح ۔ پروفیسر رحمت اللہ کا خطاب
حیدرآباد، 2مارچ (پریس نوٹ) ڈین ریسرچ اینڈ کنسلٹنسی اور مر کز پیشہ ورانہ فروغ برائے اساتذہ ¿ اردو ذریعہ ¿ تعلیم (سی پی ڈی یو ایم ٹی)،مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے ا شتراک سے ریسرچ اسکالرس کے لیے 5 روزہ آن لائن ورکشاپ کا کل افتتاح عمل میں آیا۔ صدارتی خطاب پیش کرتے ہوئے کارگزار شیخ الجامعہ، پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ نے کہا کہ بہتر تحقیق کے لیے تنقیدی مشاہدہ اور وسیع مطالعہ نا گزیر ہے۔ انہوں نے ریسرچ اسکالرس کو مشورہ دیا کہ تحقیق برائے تحقیق کے بجائے تحقیق برائے تعمیر پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 بھی تحقیق کی اہمیت وافادیت پر زور دیتی ہے ۔ اس موقع پر پروفیسر صدیقی محمد محمود ، انچارج رجسٹرار نے کہا کہ طلبہ کو موضوع کے حوالے سے غور و فکر کرنے کے بعد واضح تصور قائم کرتے ہوئے غیر جانب دار ہو کر مدلل بات کرنی چاہیے۔ اچھی تحقیق کے لیے تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ مقالہ نویسی کی مہارتوں کو بھی اجاگر کرنا چاہیے۔ قبل ازیں پروفیسر سلمیٰ احمد فاروقی ، ڈین ریسرچ اینڈ کنسلٹنسی نے ورکشاپ کے اغراض و مقاصد بیان کر تے ہوئے کہاکہ آن لائن ورکشاپ کے لیے ملک بھر کے ماہرین کی خدمات حاصل کی جارہی ہےں۔ افتتاحی تقریب کی کارروائی پر وفیسرمحمد عبدالسمیع صدیقی، ڈائرکٹر، مرکز، پیشہ ورانہ فروغ برائے اساتذہ اردو ذریعہ تعلیم نے چلائی۔ آخر میں ڈاکٹر اے سبھاش ،اسسٹنٹ پروفیسر، مطالعاتِ دکن نے ہدیہ تشکر پیش کیا۔