شعبہ ترجمہ، اردو یونیورسٹی کے سمینار سے پروفیسر سید عین الحسن، پروفیسر ارجمند آرا اور دیگر کا خطاب
PressRelease
ترجمے نے انسانی تمدن کے ارتقا اور تہذیبی انقلاب میں اہم کردار ادا کیا
شعبہ ترجمہ، اردو یونیورسٹی کے سمینار سے پروفیسر سید عین الحسن، پروفیسر ارجمند آرا اور دیگر کا خطاب
حیدرآباد، 26 مارچ (پریس نوٹ) عہدِ قدیم سے انسانی تمدن کی ترقی اور تہذیبی تغیر و تبدیلی میں فن ترجمہ نے غیرمعمولی کردار ادا کیا ہے۔ مصر، یونان اور روم کی قدیم ترین تہذیبوں کے علمی وثقافتی سرمائے سے دنیا محروم ہی رہ جاتی اگر انہیں ترجموں کے ذریعے اگلی نسلوں تک منتقل نہیں کیا جاتا۔ مولاناآزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبہ ترجمہ کی جانب سے منعقدہ دوروزہ قومی سمینار سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ارجمند آرانے ان خیالات کا اظہار کیا۔سمینار کا مرکزی موضوع "ترجمہ اور تغیر: زبان، ثقافت اور سماج کے باہمی روابط کا مطالعہ"تھا۔ پروفیسر ارجمند آرا نے اس موضوع پر کلیدی خطاب کیا۔
پروفیسر ارجمند نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ عہد وسطی میں اگر عرب یونان کے فلسفے اور علوم کو عربی زبان میں منتقل نہ کرتے تو آج دنیا ارسطو اور افلاطون کے ناموں سے بھی واقف نہیں ہوسکتی تھی۔ترجمہ کا عمل انسانی تہذیب اور ثقافت کے تسلسل اور ترقی کا سب سے اہم وسیلہ رہا ہے۔
وائس چانسلر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی پروفیسر سید عین الحسن جو پدم شری ایوارڈ یافتہ ہیں نے سمینار کے افتتاحی اجلاس کی صدارت کی۔ اپنے صدارتی خطبے میں انہوں نے کہا کہ علمی دنیا کبھی بھی ترجمے سے صرف نظر نہیں کرسکتی اور دنیا کے ہر بڑے ادیب نےاپنی زندگی کے کسی نہ کسی حصے میں ترجمہ ضرورکیا ہے۔ وائس چانسلر نے ترجمہ کی اہمیت، ترجمہ اور ثقافت کے باہمی تعلق اور ترجمے کی حرکیات نہایت بصیرت افروز نکات بیان کیے۔
اس موقع پر مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر علی رفاد فتحی نے کہا کہ ترجمہ محض ایک لسانی سرگرمی نہیں بلکہ ایک مکمل ثقافتی عمل ہے جس میں ایک زبان کی ثقافت دوسری زبان کی ثقافت میں ڈھل جاتی ہے۔ اس منتقلی میں مترجم کومختلف قسم کی لسانیاتی و ثقافتی چیلجز سے نبرد آزما ہونا پڑتا ہے۔ مہمان خصوصی پروفیسر باراں فاروقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مختلف ثقافتوں میں زبان کے الفاظ اپنے مخصوص معنی کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں انہیں جب دوسری زبان میں منتقل کیا جاتا ہے تو وہ معنی باقی نہیں رہ پاتے ، اس لیے ہدفی زبان کو اپنے معنوی سیاق کے ساتھ نئے الفاظ وضع کرنے پڑتے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے فیض احمد فیض کی نظموں کو انگریزی زبان میں ترجمے کےاپنے تجربات بھی بیان کیے۔
مہمان اعزازی کی حیثیت سے تشریف لائے ڈاکٹر سہیل احمد فاروقی نے اردو زبان میں الفاظ کی وسعت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ عثمانیہ کے دارلترجمہ میں الفاظ سازی کے لیے جو اصول بنائے گئے تھے ان کی مدد سے ہم آج بھی مختلف نئے الفاظ تراش سکتے ہیں اور ہر قسم کے مضامین کو اردو میں آسانی کے بیان کیا جاسکتا ہے۔
قبل ازیں افتتاحی اجلاس میں صدر شعبہ ترجمہ پروفیسر خالد مبشر الظفر نے خیرمقدمی کلمات پیش کرتے ہوئے تمام مہمانوں اور شرکا کا استقبال کیا۔ سمینار کے کوآرڈی نیٹر پروفیسر سیدمحمود کاظمی نے سمینار کا تعارف پیش کیا۔ جب کہ اسکول برائے السنہ ، لسانیات و ہندوستانیات کی ڈین پروفیسر گلفشاں حبیب نے اسکول اور اس کے مختلف پروگراموں اور کورسز کا تعارف پیش کیا۔پروفیسر فہیم الدین احمد نے افتتاحی اجلاس کی کارروائی چلائی اور ڈاکٹر کہکشاں لطیف نے اظہار تشکر کا فریضہ انجام دیا۔اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر سید عین الحسن کے ہاتھوں شعبہ کے اسکالرس کے تحقیقی کاموں پر •مشتمل پوسٹر پریزنٹیشن شوکیس کا بھی افتتاح ہوا۔ شعبہ ترجمہ کے اس سمینار میں ملک کے مختلف حصوں سے متنوع مضامین کے ماہر اساتذہ ، محققین اور اسکالر کی ایک کثیر تعداد شریک ہے۔